نئی دہلی،2/فروری(ایس او نیوز/ایجنسی) سی اے اے،این پی آر اور این آرسی کے خلاف ملک بھر میں ہورہے مظاہرے اور غیرآئینی فیصلوں سے ناراض اقلیتی طبقہ کومودی حکومت نے خوش کرنے کی بھرپورکوشش کی ہے۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ میں پہلی بار اقلیتی طبقے کا ذکرکیا تو ساتھ ہی خراب ہوتے معاشی حالات میں وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں 329 کروڑ روپئے کا پیکیج دیا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جولائی میں پیش کئے گئے گزشتہ سال کے بجٹ میں وزارت کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا اور اس سے پہلے بھی عبوری بجٹ میں وزارت کا بجٹ 4700 کروڑ ہی رکھا گیا تھا۔ اب وزارت اقلیتی امور کا بجٹ 50029 کروڑ روپئے کیا گیا ہے، جس سے اقلیتی طبقے میں تھوڑا اعتماد پیدا ہوگا۔
٭پری میٹرک اسکالر شپ کا بجٹ 1220 کروڑ سے 1330 کروڑ کیا گیا ہے تو پوسٹ میٹرک اسکالر شپ 496 کروڑ سے 535 کروڑ کیا گیا ہے۔ مولانا آزاد اسکالر شپ کا بجٹ 155 کروڑ سے 175 کروڑ کیا گیا۔ حالانکہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بجٹ 90 کروڑ سے گھٹا کر 82 کروڑکیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی 130 کروڑ روپئے کے بجٹ کو گھٹا کر90 کروڑ کیا گیا تھا۔ پردھان منتری جن وکاس پروگرام کیلئے مختص رقم 1469 سے بڑھا کر 1600 کردیا گیا، مجموعی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ گرتی معیشت کے درمیان ایک چھوٹا پیکیج اقلیتی طبقے کو ملا ہے۔ ساتھ ہی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلنے والے مدرسہ جدید کاری منصوبہ کے اساتذہ کیلئے بھی راحت کی خبر ہے۔ پہلی بار مودی حکومت نے اس اسکیم کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔
٭ مدرسہ ٹیچرس اسکیم کے بجٹ میں 100 کروڑ روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح سے بجٹ 120 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 220 کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ حالانکہ یہ 2015 کے بجٹ سے اب بھی 75 کروڑ کم ہے، اس وقت اسکیم کا بجٹ 292 کروڑ ہوا کرتا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ بجٹ خرچ کرنے کو لے کر سال 2018 میں صرف 18 کروڑ روپئے ہی خرچ ہوسکا۔ حالانکہ بجٹ 120 کروڑ روپئے کا تھا۔ یہ اس لئے بھی کافی اہم ہے کیونکہ حکومت نے اس اسکیم کے فارمیٹ کو تبدیل کیا ہے۔ پہلے یہ اسکیم 100 وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے فنڈیڈ تھی، لیکن اب اس میں ریاستوں کا حصہ ہے، اس طرح سے دیکھیں تو مدرسہ ٹیچر اسکیم کا بجٹ کافی بہتر ہے۔ کیونکہ اترپردیش جیسی ریاست میں مرکزی حکومت صرف 60 فیصد فنڈنگ کرے گی۔ 40 فیصد کی فنڈنگ ریاستی حکومت کو کرنا ہے۔ حکومت کے اس قدم سے اترپردیش میں ہی 30000 سے زیادہ مدرسہ ٹیچروں کو کافی راحت مل سکتی ہے، جو کئی سالوں سے تنخواہ کے لئے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔وزارت برائے اقلیتی امور کے بجٹ میں 329 کروڑ روپئے کے طور پر 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ دوسری طرف درج فہرست قبائل (شیڈول ٹرائب) کے لئے حکومت نے 85000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا التزام کیا ہے۔ اسی طریقے سے شیڈول کاسٹ کے لئے 53700 کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کا التزام ہے۔ اگر مرکز کی زیرانتظام ریاستوں جموں وکشمیر کی بات کی جائے تو جموں وکشمیر کے لئے بجٹ میں 30750 کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں جبکہ لداخ کے لئے 5958 کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں۔